ہفتہ 31 اکتوبر 2026 - 16:41
ولایت صرف عقیدہ نہیں، انفرادی اور اجتماعی زندگی کا عملی راستہ ہے: آغا سید محمد ہادی موسوی الصفوی

حوزہ/ آغا سید محمد ہادی موسوی الصفوی نے ایامِ فاطمیہ کی مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت آج بھی ہمارے گھریلو اور معاشرتی نظام کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اہلِ بیتؑ سے حقیقی محبت کا ثبوت ان کی تعلیمات پر عمل، معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور حق و انصاف کے ساتھ ثابت قدم رہنے میں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے رہبرِ شہید کی شہادت کے موقع پر احتجاج کرنے والے زیرِ حراست نوجوانوں کی رہائی یا انہیں عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں امام بارگاہ آیت اللہ سید یوسف، بمنہ بڈگام میں منعقدہ مجلسِ عزاء سے صدرِ انجمنِ شرعی شیعیان، دارالیوسف شریعت آباد بڈگام و چیئرمین آیت اللہ سید یوسف میموریل ٹرسٹ، حجت الاسلام آغا سید محمد ہادی موسوی الصفوی نے خطاب کیا۔

آغا سید ہادی موسوی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت، حقیقتِ ولایت، اتباعِ اہلِ بیتؑ، تربیتِ اولاد اور معاشرتی ذمہ داریوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیت علیہم السلام سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرے۔

سیرتِ حضرت زہراء (س) ہمارے گھریلو اور معاشرتی نظام کے لیے بہترین نمونہ ہے: آغا ہادی موسوی

انہوں نے رہبرِ شہید کی شہادت کے موقع پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی مسلسل حراست پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور ان کی رہائی یا قانونی تقاضوں کے مطابق عدالت میں پیشی کا مطالبہ کیا۔

آغا سید محمد ہادی موسوی صفوی نے امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول زیارتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مضامین کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ خداوندِ متعال انسانوں کو آزمائشوں سے گزارتا ہے اور ان کے صبر و استقامت کے مطابق انہیں مراتب و درجات عطا فرماتا ہے۔ تاہم، زیارتِ مبارکہ کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظیم فضیلت یہ ہے کہ خداوندِ متعال نے آپؑ کو دنیا میں تشریف آوری سے قبل ہی آزمایا اور آپؑ کو صابر و ثابت قدم پایا۔

انہوں نے زیارت کے اس مضمون «يَا مُمْتَحَنَةُ امْتَحَنَكِ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَكِ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عبارت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے غیر معمولی مقام و عظمت اور خداوندِ متعال کے نزدیک آپؑ کی خاص منزلت کو بیان کرتی ہے۔

خطیب مجلسِ عزاء نے زیارت کے اس مضمون «وَزَعَمْنَا أَنَّا لَكِ أَوْلِيَاءُ وَمُصَدِّقُونَ وَصَابِرُونَ» کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے دوستی، آپؑ کی تصدیق اور آپؑ کے راستے پر ثابت قدمی کا دعویٰ کرنے والوں کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا ہماری عملی زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ہم واقعی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے دوستدار اور پیروکار ہیں؟

سیرتِ حضرت زہراء (س) ہمارے گھریلو اور معاشرتی نظام کے لیے بہترین نمونہ ہے: آغا ہادی موسوی

انہوں نے کہا کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی تصدیق محض زبانی دعوے تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اس کا اظہار ہمارے کردار، عمل اور طرزِ زندگی سے بھی ہونا چاہیے۔

آغا سید ہادی نے واضح کیا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت ولایت کا اہم حصہ ہے، لیکن حقیقی ولایت محض محبت کے اظہار کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ اطاعت، اتباع اور سیرتِ اہلِ بیتؑ کی پیروی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شجاعت، قربانی اور شہدائے کربلا کی استقامت کو ہر صاحبِ دل اور آزاد منش انسان سراہتا ہے، لیکن ان کی قربانیوں کی تعریف کرنا اور ان کے راستے کو عملی طور پر اختیار کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ جب انسان کو حق کے راستے پر چلنے، عدل کا ساتھ دینے اور اپنی زندگی کو تعلیماتِ اہلِ بیتؑ کے مطابق ڈھالنے کا موقع ملتا ہے تو اسی وقت اس کی محبت اور وابستگی کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔

آغا سید ہادی نے کہا کہ حقیقی ولائی انسان وہ ہے جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کے ساتھ ان کی اطاعت بھی کرے، ان کی سیرت کو مشعلِ راہ بنائے اور اپنے اعمال کو ان کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ محبت انسان کو اتباع کی طرف لے جاتی ہے اور اتباع ہی اس محبت کے عملی ثمرات کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جب انسان کے انفرادی، گھریلو اور معاشرتی اعمال تعلیماتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مطابق ہوں گے، تبھی وہ حقیقی معنوں میں ولایت کے تقاضے پورے کرسکے گا۔

سیرتِ حضرت زہراء (س) ہمارے گھریلو اور معاشرتی نظام کے لیے بہترین نمونہ ہے: آغا ہادی موسوی

آغا سید محمد ہادی موسوی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ انسان کے اندر اطاعت اور اتباع کا جذبہ کس طرح مضبوط ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذکرِ خدا، یادِ آخرت اور موت کا استحضار اصلاحِ نفس اور اخلاقی تربیت کے اہم ذرائع ہیں۔

انہوں نے کشمیر کی قدیم سماجی و دینی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے مرحوم والدین، اجداد اور عزیزوں کی قبروں پر جانا، ان کے لیے فاتحہ پڑھنا، دعا کرنا اور قرآن خوانی کرنا ایک قابلِ قدر عمل ہے۔ قبرستان انسان کو زندگی کی ناپائیداری اور آخرت کی تیاری کی یاد دلاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب یہی لوگ اپنے بزرگوں کی قبروں پر حاضر ہوکر ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ یہ حقیقت انسان کو اپنی زندگی، اعمال اور انجام پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

انہوں نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے منقول ایک حکمت آموز قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو دنیا کے لیے اس طرح عمل کرنا چاہیے گویا اسے ہمیشہ یہاں رہنا ہے، جبکہ آخرت کے لیے اس طرح تیاری کرنی چاہیے گویا اسے کل ہی دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو دنیاوی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ آخرت کی جواب دہی کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

سیرتِ حضرت زہراء (س) ہمارے گھریلو اور معاشرتی نظام کے لیے بہترین نمونہ ہے: آغا ہادی موسوی

حجت الاسلام سید ہادی نے رہبرِ شہید کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ولایت کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی طرح سوچنے، ان کے راستے پر چلنے اور ان کی تعلیمات کی پیروی کرنے کی کوشش کرے۔ محض دعویٰ کرنے سے کوئی شخص حقیقی پیروکار نہیں بن جاتا، بلکہ دعوے کی صداقت عملی زندگی سے ثابت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روزِ قیامت انسان سے صرف عبادات کے متعلق ہی سوال نہیں ہوگا، بلکہ اس کے معاشرتی رویوں اور دوسروں کے حقوق کے بارے میں بھی بازپرس ہوگی۔ انسان سے پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنے والدین، اولاد، بہن بھائیوں، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور معاشرے میں اپنی ذمہ داریاں کس طرح ادا کیں۔

آغا سید ہادی نے زور دیا کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کا محاسبہ کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے کردار، معاملات اور اخلاق میں تعلیماتِ اہلِ بیتؑ کی کتنی جھلک موجود ہے۔

آغا سید محمد ہادی موسوی نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی گھریلو زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام ایک عظیم مجاہد اور امیرالمؤمنین ہونے کے باوجود اپنے گھر اور خاندان کی ذمہ داریوں سے غافل نہیں رہتے تھے۔ آپؑ گھر کے امور اور اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے۔

اسی طرح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے عظیم روحانی و اخلاقی مقام کے باوجود گھر کے کام انجام دیتی تھیں، کھانا تیار کرتی تھیں اور بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیتی تھیں۔ ان کی زندگی اس بات کا عملی نمونہ ہے کہ بلند روحانی مقام اور گھریلو ذمہ داریوں کی ادائیگی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے عظیم مراتب تک نہیں پہنچ سکتے، لیکن ان کی اخلاقی زندگی، گھریلو معاملات اور تربیتی اصولوں کی پیروی ضرور کرسکتے ہیں۔ ان کی سیرت کو اپنانے سے ہمارے گھرانے بہتر اور معاشرہ زیادہ اخلاقی و اسلامی بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی مختصر زندگی میں جس انداز سے اولاد کی تربیت کی، شوہر کے ساتھ زندگی گزاری اور گھر کی ذمہ داریاں نبھائیں، وہ تمام خاندانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اگر ہم اپنے گھرانوں کو خوشحال، پُرسکون اور اسلامی اقدار کا حامل بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کو اپنی زندگی میں جگہ دینا ہوگی۔

آغا ہادی نے معاشرے میں استاد اور شاگرد کے تعلقات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استاد اور شاگرد کے درمیان احترام، ادب اور اعتماد کا رشتہ کمزور ہونا ایک قابلِ توجہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو اساتذہ کا احترام کرنے اور ان کے علمی و تربیتی مقام کو پہچاننے کی تعلیم دیں۔

انہوں نے سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی میں کہا کہ علم سکھانے والوں کی عزت و تکریم اسلامی تربیت کا اہم حصہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی عملی مثال کے ذریعے بچوں میں استاد کی قدر، علم کا احترام اور اخلاقی ذمہ داریوں کا شعور پیدا کریں۔

حجت الاسلام سید ہادی نے کہا کہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ والدین، اساتذہ اور دیگر تربیتی ادارے بچوں کی اخلاقی و دینی تربیت میں مشترکہ کردار ادا کریں۔

آغا سید محمد ہادی موسوی نے رہبرِ شہید کی شہادت کے موقع پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی مبینہ بلاجواز گرفتاریوں اور طویل حراست پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض نوجوان چھ سے سات ماہ گزرنے کے باوجود جیلوں میں بند ہیں اور ان کے مقدمات میں عدالتی کارروائی کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔

انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ زیرِ حراست نوجوانوں کو جلد از جلد رہا کیا جائے، یا انہیں عدالتوں میں پیش کرکے قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری کی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha